تمباکو نوشی اور قلبی نظام پر اثرات — پاکستان میں صورتحال کا جائزہ

پاکستان میں قلبی امراض صحت عامہ کا سب سے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ عالمی بوجھ بیماری مطالعہ (GBD) 2019 کے مطابق پاکستان میں قلبی امراض کی شرح واقعات 918.18 فی 100,000 آبادی ہے، جو عالمی شرح 684.33 سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی ان قلبی خطرات میں اضافے کا ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔

سگریٹ کا ڈبہ — تمباکو نوشی
تصویر: Wikimedia Commons — CC لائسنس

قلبی اموات کے اعداد و شمار

1990 سے 2019 کے درمیان پاکستان میں سالانہ قلبی اموات تقریباً دوگنی ہو گئیں — 170,000 سے بڑھ کر 340,000 تک پہنچ گئیں۔ قلبی امراض سے شرح اموات 357.88 فی 100,000 آبادی ہے، جبکہ عالمی شرح 239.85 فی 100,000 ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی اوسط سے بہت آگے ہے۔

تمباکو نوشی اور قلبی خطرات کا تعلق

تمباکو میں موجود نکوٹین اور دیگر کیمیائی مرکبات خون کی نالیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نکوٹین بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو بڑھاتی ہے، جبکہ کاربن مونوآکسائیڈ خون میں آکسیجن کی مقدار کم کرتی ہے۔ ان عوامل کا مشترکہ اثر قلبی شریانوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔

نسوار — شمال مغربی پاکستان کا مسئلہ

نسوار ایک بے دھواں تمباکو مصنوع ہے جو خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق نسوار استعمال کرنے والوں میں قلبی شریان کی بیماری (CAD) کا خطرہ نمایاں ہے:

سگریٹ پر صحت کی تنبیہ
تصویر: Wikimedia Commons — عوامی ڈومین

بے دھواں تمباکو کے بارے میں آگاہی

2025 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 85.86 فیصد شرکاء نے بے دھواں تمباکو مصنوعات کے بارے میں سنا تھا۔ 31 فیصد نے کم از کم ایک بار بے دھواں تمباکو استعمال کیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 69.82 فیصد موجودہ استعمال کنندگان نے چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی۔

72.55 فیصد جواب دہندگان نے اتفاق کیا کہ بے دھواں تمباکو سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم 30 فیصد لوگوں کو ان مصنوعات کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ یہ آگاہی میں واضح خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

صنفی تفاوت اور خطرے کے عوامل

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق تمباکو نوشی کے خطرے کے عوامل صنفی بنیاد پر مختلف ہیں:

مردوں میں

خواتین میں

طرز زندگی اور تمباکو — ایک پیچیدہ تعلق

تمباکو نوشی محض ایک انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ یہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کا مجموعہ ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی اکثر سماجی دباؤ، روزگار کی نوعیت اور تعلیمی سطح سے جڑی ہوتی ہے۔ ان عوامل کو سمجھنا اس مسئلے کی مکمل تصویر دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان میں قلبی امراض کی شرح واقعات عالمی اوسط سے 34 فیصد زیادہ ہے — GBD 2019

دستبرداری: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور کسی طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ صحت سے متعلق فیصلوں کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔