پاکستان میں حقہ اور شیشہ — ایک ثقافتی رجحان کا جائزہ

حقہ پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں بڑے بوڑھوں کے حقہ نوشی کے مناظر عام تھے۔ مگر حالیہ برسوں میں شہروں میں شیشہ کیفے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں شیشہ لاؤنجز سماجی اجتماعات کا مقبول مقام بن گئے ہیں۔

حقہ — شیشہ
تصویر: Wikimedia Commons — CC لائسنس

روایتی حقہ اور جدید شیشہ میں فرق

روایتی حقہ میں خالص تمباکو استعمال ہوتا تھا اور یہ گھریلو ماحول میں استعمال کیا جاتا تھا۔ جدید شیشہ میں ذائقے دار تمباکو (معسل) استعمال ہوتا ہے جس میں گلیسرین، شہد اور مختلف مصنوعی ذائقے شامل ہوتے ہیں۔ پانی سے فلٹر ہونے کی وجہ سے عام تصور یہ ہے کہ یہ سگریٹ سے کم نقصان دہ ہے، مگر تحقیقات اس تصور کی تائید نہیں کرتیں۔

نوجوانوں میں مقبولیت کے عوامل

شیشہ کی بڑھتی مقبولیت کے پیچھے کئی عوامل کام کرتے ہیں:

ایک سیشن میں کیا ہوتا ہے؟

ایک عام شیشہ سیشن 30 سے 90 منٹ تک چلتا ہے۔ اس دوران ایک فرد 100 سے 200 بار سانس کھینچتا ہے، جبکہ ایک سگریٹ میں 8 سے 12 بار۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شیشہ سیشن میں دھویں کی مقدار کئی سگریٹوں کے برابر ہو سکتی ہے۔ تاہم دھویں کی ساخت اور درجہ حرارت مختلف ہوتے ہیں، اس لیے براہ راست موازنہ مشکل ہے۔

شیشہ — تفصیلی تصویر
تصویر: Wikimedia Commons — CC لائسنس

حکومتی اقدامات

پاکستان میں مختلف صوبوں میں شیشہ سینٹرز پر وقتاً فوقتاً پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2017 میں شیشہ سینٹرز پر پابندی کا حکم دیا تھا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی مختلف اوقات میں پابندیاں نافذ ہوئی ہیں، مگر عملی طور پر نفاذ ایک مسلسل چیلنج رہا ہے۔

ثقافتی پہلو

پاکستان میں حقہ کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ مغل دور میں حقہ شاہی دربار کا حصہ تھا۔ دیہی پنجاب اور سندھ میں حقہ بزرگوں کی محفلوں کا لازمی جزو رہا ہے۔ آج بھی بہت سے دیہی علاقوں میں حقہ ایک ثقافتی روایت کے طور پر برقرار ہے۔ مگر شہری شیشہ کلچر اس روایت سے بالکل مختلف ہے — یہ تجارتی، نوجوانوں پر مرکوز اور عالمی رجحانات سے متاثر ہے۔

عملی نکات

اگر کوئی فرد شیشہ نوشی کے بارے میں غور کر رہا ہے تو درج ذیل باتیں جاننا مفید ہے:

ایک شیشہ سیشن میں فرد 100 سے 200 بار سانس کھینچتا ہے — سگریٹ میں صرف 8 سے 12 بار

دستبرداری: یہ مضمون معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق فیصلوں کے لیے مستند ذرائع اور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔